ابنا: علی اکبر صالحی نے آج تہران میں کابینہ کےاجلاس کے بعد صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملت شام کے دشمن دمشق میں دھماکہ کرکے یہ سمجہ رہے تھے کہ اس ملک کے انتظام میں خلاء واقع ہو گیا ہے لیکن وہ ناکام ہو گئے اور اس وقت شام کےحالات ایسے ہیں کہ فوج مخالفین پرغلبہ حاصل کرتی جا رہی ہے۔علی اکبر صالحی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان صلح کی غرض سے ثالثی کے لئےتیار ہے، کہا کہ ہم ایک سال پہلے سے مخالفین سے رابطےمیں ہيں البتہ مخالفین کاگروہ کافی بڑا ہے اور ان کے مختلف اہداف ہيں۔دوسری جانب ایران کے وزیردفاع نے کہا ہے کہ شام کی فوج اور حکومت دہشت گردوں کامقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور اب تک اس سلسلے میں کامیاب رہی ہے۔ ہمارےن مائندےکی رپورٹ کے مطابق بریگیڈيرجنرل احمد وحیدی نے آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تسلط پسند نظام، دنیا کے مختلف علاقوں سےدہشت گردوں کوشام میں بھیج رہاہے اوراس پر پردہ ڈالنے کے لئے ایران پر شام میں فوجی موجودگی کا الزام لگا رہا ہے۔
.......
/169